فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا
اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا
Related posts
-
یزدانی جالندھری
ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو -
-
حمایت علی شاعر
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم...
